نئی دہلی،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام پارٹیاں متحد ہونے کی کوشش میں مصروف ہیں۔وہیں صوبے کی حکمران سماجوادی پارٹی کا کنبہ بکھر ہوا نظر آ رہا ہے۔ملائم سنگھ یادو کے چھوٹے بھائی اور وزیر شیو پال یادو نے پارٹی اور حکومت کے خلاف کھل کر مورچہ کھول دیا ہے۔انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ کی دھمکی دی،تب بات بگڑتی دیکھ کر خود پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے کمان سنبھالی اور شیو پال کو منانے کے ساتھ ساتھ اکھلیش حکومت کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔ملائم نے کہا کہ پارٹی کے ذمہ دار لوگ شیو پال کے خلاف سازش کر رہے ہیں،اگر انہوں نے پارٹی چھوڑ دی تو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا،ملائم نے اکھلیش حکومت کی ایسی تیسی کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی،صاف ہے ان کا نشانہ بھائی رام گوپال یادوکی طرف ہے۔ملائم سنگھ یادو نے اس پر کہا کہ آج اس نے جو کہا کیا وہ معمولی بات ہے،اگر انہوں نے استعفی دیا تو حالت خراب ہو جائے گی۔اس معاملے پر یوپی حکومت میں وزیر اعظم خان نے کہا جو سازش کر رہے ہیں، انہیں سزا دیں،ہم اس کے حق میں ہیں،سماج وادی پارٹی میں کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے۔نیتا جی کو خود سخت کارروائی کرنی چاہئے، چاہے میں ہی کیوں نہ ہوں۔وہیں سماجوادی پارٹی میں پھوٹ کے درمیان ایک بار پھر مختار انصاری کی قومی ایکتادل کے ایس پی میں ضم کی خبر ہے۔ذرائع کے مطابق اس بار خود ملائم سنگھ یادو انضمام کا اعلان کریں گے۔ذرائع کے مطابق مختار انصاری کو ایس پی کاٹکٹ نہیں دیا جائے گا لیکن ان کے دو بھائی جن کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں ہے، وہ سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں گے۔پچھلی بار جون میں قومی ایکتادل کا ایس پی میں انضمام ہوا تھا لیکن اکھلیش یادوکے اعتراض کے بعدانضمام کو واپس لے لیا گیا تھا۔